اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،بیلجیم کے شمالی علاقے میں ایک مسجد کو نفرت انگیز حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہاں نامعلوم افراد نے مسجد کے دروازوں اور کھڑکیوں پر نازی علامتیں اور نفرت انگیز پیغامات تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ داخلی راستے کے سامنے کتوں کا فضلہ بھی پھینک دیا۔
بیلجیم کے سرکاری نشریاتی ادارے VRT کے مطابق یہ واقعہ صوبہ اینٹورپ کے شہر شل میں واقع مسجد توفیق میں پیش آیا۔ مسجد کی انتظامیہ کے ارکان جمعہ کی صبح نماز سے قبل وہاں پہنچے تو انہیں مسجد میں توڑ پھوڑ کے آثار نظر آئے۔
مسجد انتظامیہ کے ارکان نے واقعے پر شدید صدمے کا اظہار کیا۔ انہوں نے نماز جمعہ سے قبل مسجد کو پہنچنے والے نقصان کی تصاویر بنائیں اور بعد ازاں نفرت انگیز تحریروں اور دیگر نشانات کو صاف کردیا۔
مسجد کی انتظامیہ نے نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کرادی ہے۔
مقامی پولیس نے مسجد پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب بیلجیم مسلم رائٹس واچ نے مسجد پر حملے کو مسلمانوں کے خلاف کھلی نفرت کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے محض عام توڑ پھوڑ کا واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
تنظیم کے سربراہ محمد امین شعیب نے واقعے کو "مسلمانوں کے خلاف نفرت کی خالص ترین شکل" قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ مسلمانوں کے خلاف واضح اور کھلے نفرت انگیز اظہار کی عکاسی کرتا ہے۔
مسلم حقوق کی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے باضابطہ شکایت بھی درج کرائے گی۔
تنظیم نے بیلجیم کے حکام سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں مساجد اور دیگر مسلم عبادت گاہوں کے گرد سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔
آپ کا تبصرہ